Your search results

 How Overseas Pakistani Can Invest in Real Estate? |اوور سیز پاکستانی کیسے رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری  کر سکتے ہیں؟

Posted by admin on October 20, 2021
0

اگر آپ بیرونِ ملک سے پاکستانی رئیل اسٹیٹ  مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں تو آپ اپنی زندگی کے بہترین سرمایہ کاری کے سفر میں شامل ہونے والے ہیں۔صحیح تیاری اور تحقیق کے ساتھ ، کوئی بھی رئیل اسٹیٹ کے منافع سے مستفید ہو سکتا ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے جو پاکستان کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں انویسٹمنٹ کرنا چاہتے ہیں ، اب صحیح وقت ہے۔ حکومت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے پراپرٹی کی سرمایہ کاری میں آسانی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی سہولیات کیلئے اقدامات کر رہی ہے  جس کی وجہ سے  پراپرٹی  کی مارکیٹ  ویلیو میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔

پاکستان رئیل  اسٹیٹ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے سرمایہ کاری کا ایک بہترین ذریعہ ہے ، خاص طور ان کیلئےجن کے پاس کافی بچت ہو اور وہ  اپنے  ملک میں ایک  محفوظ سرمایہ کاری کرنا چاہ رہے ہوں۔ بیرون ملک رہنے والے دوسرے ساتھی پاکستانیوں کی طرح ، آپ نے بھی اپنے ملک میں کچھ سرمایہ کاری کرنے کے بارے میں سوچا ہوگا۔ اگر ایسا ہے تو ہم آپ کو بتائیں گے کہ آپ بیرونِ ملک میں رہتے ہوئے کیسے پاکستانی رئیل اسٹیٹ میں انویسٹ کر سکتے ہیں ، کن دستاویزات کی ضرورت ہوگی اور پاکستانی رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری  سے پہلے کونسی باتوں کا دھیان رکھنا چاہیے ۔

پاکستانی رئیل اسٹیٹ کی قدرو اہمیت

پاکستانی رئیل اسٹیٹ کی قدرو اہمیت

عام طور پر دنیا میں اور خاص طور پر پاکستان میں ، رئیل اسٹیٹ کو سب سے محفوظ اور قابل اعتماد سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ تیزی سے ترقی اور سرمایہ کاری پر بہترین منافع ہے۔ پاکستان رئیل اسٹیٹ انڈسٹری سرمایہ کاری کے منافع بخش مواقع سے بھری ہوئی ہے۔ یہ درست ہے کہ احتیاط سے منتخب کردہ اثاثوں کے ساتھ ، پاکستان رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کے فوائد اخراجات ، کوششوں اور وقت سے کہیں زیادہ ہیں اور آپ کو مسلسل آمدنی حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔

اس بات میں بھی   کوئی شک نہیں کہ پلاٹ میں پیسے لگانا ایک مڈل کلاس اوورسیز پاکستانی کیلئے سب سے محفوظ سرمایہ کاری ہے۔ پلاٹ خریدنا آسان ہے اور زمین کی قیمت بڑھے تو بیٹھے بٹھائے ملنے والی لاٹری ہے۔ حکومت پاکستان نے شرح سود میں کمی کی ہے اور سرمایہ کاروں اور تاجروں کے لیے مراعات کا اعلان کیا ہے تاکہ وبا کے معاشی اثرات کو کم کیا جا سکے۔ یہ تعمیراتی صنعت کے لیے ایک قسم کا امدادی پیکیج ہے جس کا دوہرا مقصد روزانہ اجرت حاصل کرنے والوں کو روزگار فراہم کرنا اور معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنا ہے۔

پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کا شعبہ  تیزی سے ترقی کر رہا ہے کیونکہ مختلف کمپنیاں انتہائی مسابقتی مارکیٹ میں برتری حاصل کرنے کے لیے جدید اور تخلیقی  ہاؤسنگ سکیمز   کا افتتاح کر رہی ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ  اندون و بیرونِ ملک رہائش پذیر افراد کی ضروریات، معیار اور خواہشات  کو پورا کرنے کے لیے مختلف  رئیل اسٹیٹ ڈویلپر پرتعیش ، دلکش  اورپرکشش رہائشی منصوبوں  کی تعمیر پر تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ رئیل اسٹیٹ انڈسٹری میں یہ ابھرتا ہوا رجحان مستقبل قریب میں کم ہوتا دکھائی نہیں دے رہا، اس لیئے اپنی قیمتی کمائی کو ضائع ہونے سے بچائیں اور پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں انویسٹ کر کے منافع کمائیں۔

بیرونِ ملک مقیم پاکستانی پاکستان کی رئیل اسٹیٹ انڈسٹری میں کیسے سرمایہ کاری کر سکتے ہیں؟

قابل اعتماد رئیل اسٹیٹ پروجیکٹ میں سرمایہ کاری نہ صرف ایک انتہائی فائدہ مند انتخاب ہو سکتی ہے ، بلکہ یہ ٹیکس   اور دیگر بہت سارے فوائد کے ساتھ آتی ہے۔تاہم پاکستانی  رئیل اسٹیٹ بڑی تعداد میں سودے اور لین دین کے کئی عوامل پر مبنی مشکلات اور قانونی خدشات سے بھرا ہوا ہے۔تمام عوامل کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیسے بیرونِ ملک رہتے ہوئے آپ پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں؟ اس کے کافی ذرائع ہیں لیکن بہترین انتخاب روشن اپنا گھر سکیم ہے۔

روشن اپنا گھرسکیم

روشن اپنا گھر سکیم روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس (آر ڈی اے) انفراسٹرکچر کے تحت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے شروع کی گئی ایک نئی پہل ہے جو لاکھوں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو پاکستان کے بینکوں کے تعاون سے جدید بینکاری حل تک رسائی کی اجازت دیتی ہے۔ پاکستان کے مرکزی بینک کے مطابق روشن اپنا گھرسکیم ان اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ایک عمدہ سہولت ہے جو روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ رکھتے ہیں۔

وہ پاکستانی جو پاکستان کے بجائے کسی دوسرے ملک میں مقیم ہیں اس سکیم کے تحت اپنے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے گھر کی خریداری کے لیے سودی بینکاری یا اسلامی بینکاری کے ذریعے فنانسنگ حاصل کر سکیں گے۔اس مقصد کے لیے آپ کو کسی بینک یا برانچ کا وزٹ کرنے کی ضرور ت بھی نہیں ہو گی۔ اسٹیٹ بینک  پاکستان کے مطابق اوور سیز پاکستانی بینکوں کی جانب سے پہلے سے منظور کردہ منصوبوں یا کسی اور جگہ جائیداد خرید یا اس کے لیے فنانسنگ حاصل کر سکیں گے۔

اس منصوبے کی مزید معلومات آپ ان کی ویبسائٹ یا متعلقہ بینک کی ویبسائٹ سے حاصل کر سکتے ہیں۔

 پاکستان میں رئیل اسٹیٹ میں  سرمایہ کاری کیلئےآپ کو کن دستاویزات کی ضرورت ہوگی؟

اپنے حالیہ پاسپورٹ کی کاپی اور چھ پاسپورٹ سائز تصاویر۔

کی نقل۔ NICOP

پاسپورٹ پر ایگزٹ سٹیمپ کی کاپی۔

بیرونی ملک کے انٹری سٹیمپ کی ایک کاپی جہاں ایکسپیٹ پاکستانی رہتا ہے۔

فیملی کے ارکان کے ناموں کی فہرست ان کے پاسپورٹ سائز تصاویر کے ساتھ۔

پاکستانی رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری  سے پہلے کونسی باتوں کا دھیان رکھنا چاہیے؟

پاکستان میں جائیدادوں میں سرمایہ کاری کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے  کہ آپ مکمل تحقیق کریں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ آپ قانونی طور پر جائیداد خریدنے جا رہے ہیں اور کسی دھوکے باز کے ذریعے پھنس نہیں جائیں ۔ مزید یہ کہ ، آپ کو قابل ِاعتماد ڈویلپرز اور رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ کے بارے میں جاننا ہوگا کیونکہ اس سے پراپرٹی فراڈکے امکانات بھی کم ہوجائیں گے۔ مثال کے طور پر پاکستان میں کہیں بھی کسی بھی جائیداد میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے ، آپ کو لاہور ، کراچی اور اسلام آباد سمیت پاکستان کے معروف شہروں میں جائیدادیں تلاش کرنے کو ترجیح دینی چاہیے۔

رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری سے پہلے مندرجہ ذیل باتوں کا دھیان رکھیں۔

 جب بھی کاروباری شراکت داروں کے ساتھ کوئی مالی لین دین کریں تو ہمیشہ قانونی راستے اختیار کریں ۔

 نئے کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے سے پہلے تمام ضروری دستاویزات کی تصدیق کریں۔ سرمایہ کاری کا فیصلہ کرنے سے پہلے اصل جگہ کا دورہ کرنا بہتر ہے۔

 تمام حصص یافتگان/ سرمایہ کاری اور کاروباری شراکت داروں کے حقوق اور فرائض پر بحث کرتے ہوئے ایک تحریری معاہدہ تیار کریں۔ تمام متعلقہ فریقوں کو شراکت داری کے اس معاہدے پر دستخط کرنا ہوں گے۔

 اگلا مرحلہ حکومت کی کاروباری ریگولیٹری خدمات کے ساتھ رجسٹرڈ ہونا ہے۔ مثال کے طور پر فیڈرل چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) یا سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)۔

 جنرل پاور آف اٹارنی کبھی کسی کو نہ دیں۔ اگر واقعی ضروری ہو تو ، صرف خاص مقصد کا ذکر کرتے ہوئے خصوصی پاور آف اٹارنی تفویض کریں۔ محتاط رہیں کہ جنرل پاور آف اٹارنی کے مالک کو تمام قانونی اختیارات حاصل ہیں بشمول مالک کو مطلع کیے جائیداد فروخت کرنے کا حق

 یا کسی دوسرے اہم شناختی دستاویز کی کاپی کسی بھی مقصد  کیلئے  کسی کو نہ دیں۔   CNIC یا NICOP اپنے

جب بھی ضروری  ہو اس پر کراس کا نشان لگا کر اور مقصد واضح لکھیں۔

غیر تعلیم یافتہ ایجنٹ مافیا  اور وہ رئیل اسٹیٹ ایجنٹس جن کے پاس کسٹمرز کو ڈیل کرنے کی مہارت نہیں ہے انہوں نے رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو بدنام کر دیا ہے اور زیادہ تر حالات میں دھوکہ دہی کا باعث بنتے ہیں۔ ان تمام حالات کے ملحوظِ خاطر  ملک میں ایک وفاقی  رئیل اسٹیٹ اتھارٹی کی ضرورت ہے کہ وہ  بیرون ِ ملک سے پراپرٹی خریدنے والوں کے حقوق کو محفوظ بنائے۔ رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے جو کہ پاکستان کی اعلیٰ ترین صنعتوں میں سے ایک ہے۔ لہذا  حکومت ِپاکستان  کو بیرون ِملک  مقیم پاکستانیوں کو رئیل اسٹیٹ میں  سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے طریقہ کار پر غور اور ان کی سرمایہ کاری کو محفوظ کرنے کے اقدامات کرنا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Compare Listings